{"product_id":"jasosoo-ki-katha-جاسوسوں-کی-کتھا-آئی-ایس-آئی-را-اور-امن-کا-واہمہ","title":"JASOSOO KI KATHA: جاسوسوں کی کتھا \/آئی ایس آئی، را اور امن کا واہمہ","description":"\u003cp class=\"urdudes\"\u003eاے ایس دولت را کے سیکرٹری تھے، 2000-1999\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003eجنرل اسد درّانی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل تھے، 91-1990\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003eادتیہ سہنا دہلی کے مضافات میں مقیم ایک صحافی اور مصنف ہیں\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003eہم نے سچائی کے اتنے قریب رہنے کی کوشش کی ہے جتنا کہ ہم اسے مانتے ہیں چاہے اس میں سے کچھ کو افسانہ ہی کیوں نہ سمجھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر زیادہ تر کہانیوں کے دو سے زیادہ رخ ہوتے ہیں۔ سچائی ایک رنگین عدسہ ہوتی ہے جس میں ہر کوئی مختلف رنگ دیکھتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes uleft\"\u003e(اے ایس دولت)\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003eہم میں سے کچھ کے ذہنوں میں دانائی کا قلزم موجزن ہے، اور وہ اسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے انتہائی بے چین ہیں۔ اس کا ایک مفید طریقہ مخالف دھڑوں کے اہم کھلاڑیوں کے درمیان تبادلہ خیال ہے، بشرطیکہ ہم اپنی غلطیاں تسلیم کرنے اور ایک مختلف بیانیہ، حتیٰ کہ متبادل حقائق، سامنے رکھنے کے لیے تیار ہوں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003e(اسد درّانی)\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003eجیسا کہ دو جاسوسوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کاوش کے نتیجے میں رونما ہونے والے کھلے خطرات کے علاوہ اس کے مضمرات سے بھی آگاہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ میز پر بیٹھ کرپرسکون ماحول میں وہ جو باتیں کرتے ہیں، اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ ان کی گفتگو پاک بھارت تعلقات کی اصل حقیقت کا احاطہ کرتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes uleft\"\u003e(ادتیہ سہنا)\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003eافق کی سمت اشارہ کرتے ہوئے جہاں آسمان اور سمندر باہم مل رہے ہیں، وہ کہتا ہے، “یہ محض ایک بصری دھوکا ہے کیوں کہ درحقیقت وہ نہیں ملتے ہیں۔ لیکن کیا یہ منظر خوب صورت نہیں؟ وہ ملاپ جو دراصل نہیں ہوتا۔”\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes uleft\"\u003e(سعادت حسن منٹو)\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003e2016 میں کسی وقت مکالموں کا ایک سلسلہ چلا تھا جس نے اے ایس دولت اور اسد درّانی کے درمیان ملاقات کی بنیادرکھ کردی، چاہے اسے ایک واہمہ ہی کیوں نہ کہہ لیں۔ ایک را کے سابق چیف تھے، جو انڈیا کی انٹیلی جنس ایجنسی ہے، دوسرے اس کی مخالف پاکستانی ایجنسی، آئی ایس آئی کے چیف۔ چوں کہ دونوں کی اپنے آبائی ممالک میں ملاقات نہیں ہوسکتی تھی جب کہ صحافی ادتیہ سہنا ان ملاقاتوں کی میزبانی کررہے ہوں، اس لیے یہ ملاقاتیں دیگر شہروں، جیسا کہ استنبول، بنکاک اور کھٹمنڈو میں ہوئیں۔ میز پر رکھے گئے موضوعات وہ تھے جو طویل عرصے سے جنوبی ایشیا کو آسیب کی طرح گھیرے ہوئے ہیں، سلگتے ہوئے مسائل جن کی وجہ سے لگاتار جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ یہ ہر لحاظ سے بر صغیر کے سیاسی قلزم میں گہری چھلانگ تھی، جیسا کہ دونوں جاسوں کی ماہرانہ نظریں اسے دیکھتی ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003eموضوعات میں کشمیر، ہاتھ سے نکل جانے والے مواقع، حافظ سعید اور ممبئی حملے، کلبھوشن یادیو، سرجیکل اسٹرئیکس، اسامہ بن لادن کے لیے ڈیل، امریکہ اور روس پاک بھارت تعلقات میں کہاں کھڑے ہیں، اور کس طرح دھشت گردی دونوں ممالک کے درمیان گفتگو کی کوششوں کو ناکام بنا دیتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"urdudes\"\u003eجب سب سے پہلے اس منصوبے کو زیر بحث لایا گیا تو جنرل درّانی نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر اسے فکشن کی طرز پر لکھا جائے تو بھی کوئی اس پر یقین نہیں کرے گا۔ کشیدہ تعلقات کے دور میں مخالف سمتوں کے سابق جاسوس چیفس کے درمیان یہ ناممکن دکھائی دینے والا مکالمہ، جو اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہے، ممکنہ طور پر کچھ جوابات فراہم کرسکتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Elite Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":42149993709647,"sku":"","price":3040.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0595\/9699\/6687\/files\/Untitleddesign-2024-09-12T151517.960.png?v=1726136134","url":"https:\/\/www.elitebooks.store\/products\/jasosoo-ki-katha-%d8%ac%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%aa%da%be%d8%a7-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%88%d8%a7%db%81%d9%85%db%81","provider":"elitebooks.store.pk","version":"1.0","type":"link"}